پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اتحاد پر عالمی کشیدگی میں اضافے اور فوجی بلاکس کو مضبوط بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی حقیقی کوشش کی جانی ہے تو اس کا آغاز امریکا کے اتحادی ممالک سے ہونا چاہیے۔
سرکاری خبر رساں ادارے KCNA کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو رہنماؤں نے شمالی کوریا کے جائز خودمختار دفاعی اقدامات کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد خود فوجی اخراجات میں اضافہ، اسلحے کی دوڑ اور ایشیا بحرالکاہل میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس نے واضح کر دیا ہے کہ اتحاد یورپ اور ایشیا بحرالکاہل میں بلاک سیاست اور محاذ آرائی کو فروغ دے رہا ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور جاپان کے امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی جوہری تحفظ کے سائے میں ان ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
پیانگ یانگ کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شمالی کوریا پر یکطرفہ طور پر جوہری ہتھیار ترک کرنے کا دباؤ اب قابل قبول نہیں رہا۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ اگر عالمی برادری واقعی جوہری تخفیف چاہتی ہے تو اسے پہلے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جوہری حکمت عملی اور عسکری پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
شمالی کوریا نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام کو ذمہ دارانہ انداز میں جاری رکھے گا۔
ادھر شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہنما کم جونگ اُن کی ہدایات پر ملک نے اپنی جوہری قوت کو "تعداد اور صلاحیت دونوں لحاظ سے” مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کی منظوری بھی دے دی ہے، جسے پیانگ یانگ اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
