وسطی غزہ کے علاقے المغازی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی ڈرون حملے میں فلسطینی پولیس کے تین اہلکار شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ فلسطینی حکام نے حملے کو شہری سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی ڈرون نے پولیس کی ایک گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب اہلکار معمول کے گشتی فرائض انجام دے رہے تھے۔ وزارت کے مطابق حملے میں کیپٹن منصور سمی شحتوت، کیپٹن محمد خالد نوفل اور فرسٹ سارجنٹ مہدی نادر جبر شہید ہوئے، جبکہ متعدد زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ غزہ پولیس جنگ بندی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے تحفظ، امدادی سامان کی منصفانہ تقسیم اور لوٹ مار کی روک تھام جیسے اہم فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا مقصد غزہ میں بدامنی اور افراتفری پھیلانا ہے۔
فلسطینی حکام نے جنگ بندی کے ضامن ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالا جائے تاکہ حملے روکے جائیں اور جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے، قیدیوں کے ممکنہ تبادلے اور دیگر امور پر فلسطینی دھڑوں اور ثالث ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے، امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں اور شہری علاقوں کو مسلسل نشانہ بنانا جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم اسرائیل کا ماضی سے یہی مؤقف رہا ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیوں کا ہدف حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے وابستہ افراد اور عسکری تنصیبات ہوتی ہیں۔
اسی دوران اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مسلسل فوجی کارروائیوں، خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ امدادی تنظیموں کے مطابق وقفے وقفے سے ہونے والے حملے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں بلکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
