نیویارک: بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے تین ججوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان پر عائد امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور عدالتی آزادی کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقدمہ مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزار ججوں میں Kimberly Prost، Solomy Balungi Bossa اور Reine Alapini-Gansou شامل ہیں۔
عدالتی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ججوں پر ماورائے عدالت دباؤ ڈالنا، انہیں سزا دینا اور ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونا تھا، جو بین الاقوامی عدالتی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ خزانہ اور وائٹ ہاؤس نے مقدمے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال آئی سی سی کے متعدد ججوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ اقدام عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع Yoav Gallant کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کی بھی حمایت کی تھی۔
ماہرین کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث متاثرہ افراد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی پیچیدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ امریکی مالیاتی نظام سے منسلک بینک اور ڈالر میں لین دین کرنے والے ادارے پابندیوں پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ International Criminal Court کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا۔ عدالت کو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم امریکا، چین، روس اور اسرائیل سمیت بعض ممالک آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بین الاقوامی انصاف، عدالتی آزادی اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک اہم قانونی اور سفارتی بحث کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں بین الاقوامی عدالتی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
