تہران: ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حکام فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے آنے والے ایرانی وفد کے بعض ارکان کو ہوائی اڈوں پر روک کر مشکلات پیدا کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹیم کی سفری منصوبہ بندی متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے مطابق ایرانی قومی ٹیم کے فارورڈ Mehdi Taremi اور اسسٹنٹ کوچ Saeed Alaei کو امریکی حکام کی جانب سے امیگریشن اور سفری مراحل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ان کی ٹیم کے ساتھ دوبارہ شمولیت میں تاخیر ہوئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ISNA کے مطابق قومی ٹیم اس وقت اپنے دونوں ارکان کے دوبارہ وفد میں شامل ہونے کی منتظر ہے، جبکہ انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے ورلڈ کپ وفد کے لیے بعض سفری پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ اس سے قبل تہران اور ایرانی ٹیم انتظامیہ نے شکایت کی تھی کہ سخت داخلہ قوانین اور بار بار سرحدی نقل و حرکت کی شرائط ٹیم کی تیاریوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ابتدائی طور پر ایرانی ٹیم کو صرف میچوں کے قریب امریکا میں داخل ہونے اور مقابلوں کے فوراً بعد واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔ ایران کی ٹیم میکسیکو کے شہر Tijuana میں قیام پذیر ہے اور میچوں کے لیے امریکا کا سفر کر رہی ہے۔
ایرانی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ Amir Ghalenoei نے پہلے بھی ان سفری انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلسل سرحد پار سفر کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
بعد ازاں امریکی حکام نے نرمی کرتے ہوئے ایرانی ٹیم کو مصر کے خلاف میچ سے دو روز قبل سیئٹل پہنچنے کی اجازت دی، جسے ایران نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا تھا۔ تاہم تازہ واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفری انتظامات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث ایرانی وفد کو سکیورٹی اور سفری پابندیوں کے اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔
