ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈ مرکز خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ دو روز کے دوران جنگ بندی کی کم از کم 48 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان اور ایران-امریکا مفاہمتی عمل کے آغاز کے باوجود اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں جنگ بندی کے اصولوں کے منافی ہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
بیان میں اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر جنوبی لبنان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔ ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور استحکام خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات صورتحال کو دوبارہ سنگین تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ضروریات کے تحت لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی ایران-امریکا سفارتی عمل کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے، کیونکہ لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات مستقبل کے مذاکرات میں بھی اہم موضوعات کے طور پر زیر بحث آنے کا امکان رکھتے ہیں۔ عالمی سفارتی حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل اور جنگ بندی کے مکمل احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
