Table of Contents
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ کے نئے فریم ورک کے تحت کھلاڑیوں کی کیٹیگریز اور ان کی تقسیم کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ نے طے کیا ہے کہ کس کھلاڑی کو کون سی کیٹیگری یا ٹریک دیا گیا ہے، اس کی معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔ اسی طرح ہر ٹریک میں شامل کھلاڑیوں کی تعداد اور کنٹریکٹس کی تقسیم بھی باضابطہ طور پر شائع نہیں کی جائے گی۔
پی سی بی کا مؤقف ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ سے متعلق کیٹیگریز، ٹریکس اور کھلاڑیوں کی تقسیم سلیکشن اور انتظامی معاملات کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں داخلی پالیسی کے تحت رکھا جا رہا ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی
ذرائع کے مطابق بورڈ نے کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے لیے واضح شرائط بھی متعارف کرائی ہیں۔ ہر کھلاڑی کو اپنے متعلقہ ٹریک کے مطابق فرسٹ کلاس، لسٹ اے اور ٹی ٹوئنٹی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کرنا ہوگی۔
مجوزہ شرائط کے تحت کھلاڑیوں کے لیے کم از کم:
فرسٹ کلاس میچز
طویل فارمیٹ
5+
لسٹ اے میچز
50 اوورز فارمیٹ
10+
ٹی ٹوئنٹی شرکت
متعلقہ ٹریک کے مطابق
لازمی
یہ تعداد ذرائع کے مطابق مجوزہ ہے، حتمی شرائط بورڈ کی باضابطہ منظوری کے بعد نافذ ہوں گی۔
بین الاقوامی سیریز نہ ہو تو…
پی سی بی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب قومی ٹیم کی کوئی بین الاقوامی سیریز شیڈول نہ ہو تو سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے دستیاب رہنا ہوگا۔ اس پالیسی کا مقصد قومی کھلاڑیوں کی مستقل میچ پریکٹس برقرار رکھنا اور ڈومیسٹک نظام کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
اہم نکتہ
دستیابی لازمی
بین الاقوامی مصروفیات نہ ہونے کی صورت میں کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی ڈومیسٹک میچز کھیلنے کے پابند ہوں گے۔
نیا فریم ورک کیا بدل رہا ہے؟
حالیہ دنوں میں پی سی بی پہلے ہی فارمیٹ پر مبنی ٹریک سسٹم، کارکردگی، فٹنس اور ڈیٹا پر مبنی جائزے کا اعلان کر چکا ہے۔ اب کیٹیگریز کو خفیہ رکھنے کے فیصلے کو اسی وسیع اصلاحاتی پیکیج کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بورڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار سے کھلاڑیوں کے درمیان کیٹیگری سے متعلق غیر ضروری بحث کم ہوگی اور توجہ کارکردگی پر مرکوز رکھی جا سکے گی۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ مکمل شفافیت نہ ہونے سے عوام اور سابق کھلاڑیوں کے سوالات بڑھ سکتے ہیں۔
