امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے خلاف فضائی دفاعی نظام نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام میزائلوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیا، جس کے باعث امریکی تنصیبات یا اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے تمام میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور ان کارروائیوں کے نتیجے میں کسی امریکی فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی افواج نے ایران میں تقریباً 20 مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں حالیہ کشیدگی اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے واقعے کے بعد کی گئیں۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد "متناسب ردعمل” دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ریڈار تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف کم از کم چھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق قشم، سیریک، جسک اور کوہِ مبارک کے علاقوں میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں کے نقصانات یا امریکی دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، جبکہ تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی توانائی کی ترسیل اور علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
