امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، اور اس واقعے کے بعد امریکہ کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امریکی فوج کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ ایرانی فورسز نے رات کے وقت گشت کے دوران ایک جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق واقعے میں شامل دونوں پائلٹ محفوظ رہے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں مختلف فریقین کے درمیان سکیورٹی صورتحال غیر مستحکم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس حملے کا "ضرور جواب دے گا”، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب امریکی فوجی حکام کے مطابق واقعے کے بعد بحریہ کے ایک ڈرون نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں عملے کے ارکان کو تلاش کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 3 بجے پیش آیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے بعض حملوں کے بعد وقتی طور پر فائرنگ روکنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے واقعات خطے میں وسیع تر تنازع کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران میں پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران فضائی دفاعی اہلکاروں کی تدفین کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جو خطے کی مجموعی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔
