امریکی صدر Donald Trump پر مبینہ قاتلانہ حملے کے ملزم نے عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام الزامات قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 31 سالہ ملزم کول ایلن کو واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے وکیل نے اس کی جانب سے بے گناہی کی درخواست جمع کروائی۔
استغاثہ کے مطابق کول ایلن پر امریکی صدر کے قتل کی کوشش، ایک وفاقی افسر پر حملہ اور آتشیں اسلحہ سے متعلق متعدد جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ ملزم نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران امریکی خفیہ سروس کے ایک اہلکار پر شاٹ گن سے فائرنگ کی اور سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا۔
حکام کے مطابق حملے کا مقصد صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر ارکان کو نشانہ بنانا تھا۔
ملزم کول ایلن نے عدالت میں کوئی بیان نہیں دیا۔ وہ نارنجی رنگ کے جیل لباس میں عدالت پہنچا جبکہ اس کی کمر پر بیڑیاں لگی ہوئی تھیں۔
یہ مقدمہ امریکی ڈسٹرکٹ جج Trevor McFadden کی عدالت میں زیر سماعت ہے، جو آئندہ بھی کیس کی کارروائی کی نگرانی کریں گے۔
اس مقدمے کی سماعت سے قبل ایک اور جج نے واشنگٹن ڈی سی جیل انتظامیہ کی جانب سے ملزم کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر معذرت کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق کول ایلن کو خودکشی کے خدشات کے تحت سخت نگرانی میں رکھا گیا تھا اور اسے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس مقدمے نے امریکا میں صدارتی سیکیورٹی اور سیاسی کشیدگی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
