Table of Contents
برطانوی دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے متعدد علاقوں کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ نئی ہدایات میں عسیر، ریاض اور نجران کے صوبوں سمیت جیزان اور طائف شہر شامل ہیں۔
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق شہریوں کو طائف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سفر سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ یمن کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے اندر تمام سفر سے منع کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے لیے سفری ہدایات میں تبدیلی
برطانوی دفتر خارجہ نے 8 اکتوبر کو اپنی سفری ہدایات اپ ڈیٹ کیں۔ اس میں سعودی عرب کے مذکورہ علاقوں کے لیے صرف ضروری سفر کی اجازت دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب میں ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کی تنصیبات کو خطرات لاحق ہیں۔ مزید حملوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ریاض میں میزائل ملبے سے عمارتوں کو نقصان
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ گرا۔ اس سے بچوں کی ایک نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔
سعودی حکام نے واقعے کے بعد ہنگامی کارروائیاں شروع کیں۔ دستیاب بیان میں اس واقعے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا حوثیوں کا دعویٰ
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ تنظیم نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب بیلسٹک میزائل داغا۔
حوثیوں نے حملے میں ہدف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد نے ریاض کی جانب داغے گئے دو میزائل اور خمیس مشیط کی طرف آنے والا ایک میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
فضائی سفر متاثر ہونے کا خدشہ
حالیہ واقعات کے بعد بعض بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور سفری صورتِ حال سے باخبر رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
