Table of Contents
ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں ہے۔
فیدان نے انقرہ میں ہنگری کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی وضاحت کی۔
حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع
حاقان فیدان کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت رکھتا ہے۔ اگر کسی رکن ملک پر مسلح حملہ ہوا تو دیگر ارکان اس کی مدد کریں گے۔
تاہم، ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کے لیے فوج نہیں بھیجے گا۔ فیدان نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد رکن ممالک کا دفاع ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون
ترکیہ اور سعودی عرب کے فوجی حکام دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کی گفتگو میں فضائی دفاع اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں شامل ہیں۔
دونوں ممالک تکنیکی معاونت کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، ترکیہ سعودی عرب کو پہلے ہی دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے۔
اس تعاون میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس اور نگرانی شامل ہیں۔ دفاعی منصوبہ بندی اور ڈرون آپریشنز سے متعلق معاونت بھی اس کا حصہ ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم، معاہدے کی ترکیہ کی پارلیمنٹ سے توثیق ابھی باقی ہے۔ اس لیے اس کے عملی نفاذ کی تفصیلات اہمیت رکھتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ریاض اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
