Table of Contents
مدینہ منورہ: پاکستان علماء کونسل نے مدینہ منورہ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی 31 سفارشات اور تجاویز کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔
کانفرنس سعودی عرب کی جانب سے فکری انحرافات کی روک تھام کی کوششوں کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ پاکستان علماء کونسل نے کانفرنس کی سفارشات کو فکری شعور، اعتدال اور علمی تحقیق کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔



فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع فریم ورک کی حمایت
پاکستان علماء کونسل کے مطابق کانفرنس کی سفارشات فکری شعور کے فروغ پر توجہ دیتی ہیں۔ ان میں اعتدال، متوازن فکر اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔


سفارشات میں تعلیمی نظام کی بہتری پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل ماحول میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
کانفرنس میں علماء، تعلیمی اداروں، محققین، میڈیا اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس کو اہم علمی پلیٹ فارم قرار دیا
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس کو اہم علمی پلیٹ فارم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے علمی مکالمے، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کے لیے مؤثر موقع فراہم کیا۔ اس میں سعودی عرب اور دیگر ممالک کے علماء، محققین اور ماہرین نے شرکت کی۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے عصر حاضر کے فکری چیلنجز پر ہونے والی گفتگو کو بھی سراہا۔ انہوں نے آگاہی اور تعلیم کے مؤثر طریقوں پر تبادلے خیال کو اہم قرار دیا۔
کانفرنس میں 9 مکالماتی نشستیں ہوئیں
اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی میزبانی میں کانفرنس 27 اور 28 ستمبر 2026 کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کو گورنر مدینہ منورہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی حاصل تھی۔
کانفرنس کے دوران 9 مکالماتی نشستیں منعقد ہوئیں۔ مملکت اور بیرون ملک سے علماء، محققین اور ماہرین نے 130 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے۔
علمی جانچ پڑتال کے بعد 56 تحقیقی مقالات منظور کیے گئے۔
تحقیق اور ڈیجیٹل آگاہی پر خصوصی توجہ
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کانفرنس میں فکری انحرافات سے نمٹنے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔
ان میں علمی، تعلیمی، ادارہ جاتی اور ٹیکنالوجیکل پہلو شامل تھے۔ انہوں نے سائنسی تحقیق اور نئے فکری چیلنجز کی بروقت نشاندہی کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے نوجوانوں میں آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کو بھی کانفرنس کی اہم بحث قرار دیا گیا۔
خصوصی تحقیقی مراکز اور ڈیٹا بیس کی تجاویز
کانفرنس کی سفارشات میں فکری انحراف اور انتہاپسندی سے متعلق خصوصی تحقیقی مراکز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی سطح پر تحقیقی ڈیٹا بیس بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مستند علمی جرائد اور تحقیقی پلیٹ فارمز کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے۔
قومی اشاریوں کی تیاری اور تعلیمی اقدامات کی تجاویز بھی سفارشات کا حصہ ہیں۔ فکری آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پروگرامز کے فروغ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
اساتذہ اور علماء کی تربیت پر زور
حافظ طاہر محمود اشرفی نے تعلیمی نصاب کی ترقی سے متعلق سفارشات کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے اساتذہ، علماء اور تعلیمی ماہرین کے لیے تربیتی پروگرامز کی حمایت کی۔ نوجوانوں کی معاونت اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق تعلیمی، مذہبی، میڈیا اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون ضروری ہے۔
مستند دینی مواد کے فروغ کی ضرورت
حافظ طاہر محمود اشرفی نے ڈیجیٹل دنیا میں مستند دینی مواد کے فروغ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دینی رہنمائی سے ذمہ دارانہ استفادہ یقینی بنانا ضروری ہے۔ عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل پر علماء اور ماہرین کے درمیان تعاون بھی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف معاشروں کے تجربات کا عالمی سطح پر تبادلہ ہونا چاہیے۔ اس عمل میں سماجی، تعلیمی اور ثقافتی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے کردار کو سراہا
حافظ طاہر محمود اشرفی نے اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی میزبانی کو سراہا۔ انہوں نے فکری آگاہی، اعتدال، تحقیق اور مکالمے کے فروغ میں یونیورسٹی کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں سعودی عرب اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے نتائج محققین، اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر زور
حافظ طاہر محمود اشرفی نے تعلیمی، مذہبی، میڈیا، سکیورٹی اور معاشرتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے فکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے علمی تحقیق اور عملی اقدامات کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فکری آگاہی، اعتدال، معاشرتی استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے مسلسل تعاون ضروری ہے۔
