Table of Contents
پاکستان نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں مبینہ خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، بھارتی بحری جہاز نے پاک بحریہ کی جاری مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی متعدد کوششیں کیں۔
دفتر خارجہ نے بھارتی بحری جہاز کے طرز عمل کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دوطرفہ معاہدوں اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی پابندی کرے۔
پاک بحریہ کی سی اسپارک 26 مشقیں جاری
دفتر خارجہ کے مطابق، پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق، 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر تعینات ہیلی کاپٹر نے مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی متعدد کوششیں کیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی بحری جہاز نے پاک بحریہ کے جہازوں کے قریب خطرناک انداز اختیار کیا۔
اس دوران بھارتی بحری جہاز کا طرز عمل بھی اشتعال انگیز رہا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، بھارتی جہاز کو متعدد بار انتباہ کیا گیا۔
اس کے باوجود بھارتی بحری جہاز نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
آئی این ایس کولکتہ اور پی این ایس حنین میں رگڑ
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، 15 ستمبر کو ایک اہم واقعہ پیش آیا۔
بیان کے مطابق، آئی این ایس کولکتہ نے اچانک خطرناک انداز میں اپنا رخ تبدیل کیا۔
اس کے نتیجے میں بھارتی بحری جہاز کی پی این ایس حنین سے رگڑ ہوئی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پی این ایس حنین نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
واقعے کے بعد بھارتی بحری جہاز نے اپنی رفتار بڑھائی اور علاقے سے روانہ ہوگیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے واقعے کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا۔
پاک بحریہ کے ذمہ دارانہ طرز عمل کا دعویٰ
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ واقعہ سنگین بحران کا سبب بن سکتا تھا۔
پاکستان کے مطابق، پاک بحریہ نے صورتحال میں پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک بحریہ کے اس طرز عمل نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد دی۔
پاکستانی حکام نے بھارتی بحریہ کی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے بھارتی مؤقف مسترد کردیا
دفتر خارجہ نے بھارتی مؤقف کو بھی مسترد کیا ہے۔
بھارتی جانب سے ان سرگرمیوں کو معمول کی بحری تعیناتی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف درست نہیں ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، بھارتی بحری جہاز کی سرگرمیاں 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے۔
مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کا مطالبہ
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ بھارتی بحریہ کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویش سے دیکھتا ہے۔
پاکستان نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کریں۔
اس کے ساتھ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان نے کہا کہ ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کو روکنے کے لیے بھارتی حکام فوری اقدامات کریں۔
دفتر خارجہ کے مطابق، سمندری حدود میں اس نوعیت کے واقعات کو روکنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
پاکستان اور بھارت کے سرکاری مؤقف مختلف
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی مؤقف کے حوالے سے بھی وضاحت کی۔
بیان کے مطابق، بھارت نے واقعے کی ذمہ داری پاکستانی بحری یونٹ پر عائد کی ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔
یوں واقعے کے بارے میں دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ بھارت حقائق کو مسخ کرکے معاملے کو سفارتی سطح پر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، بھارت نے پاکستان کے خلاف سفارتی احتجاج بھی کیا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
علاقائی امن پر ممکنہ اثرات
پاکستانی دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات علاقائی امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرے۔
پاکستان نے دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری اور ایسے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق، سمندری حدود میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔
