Table of Contents
گجرات، بھارت: اسماعیلی برادری کے 50ویں موروثی امام شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے گورنر گجرات آچاریہ دیوورت سے ملاقات کی۔
ملاقات میں گجرات میں AKDN کے مختلف منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔
ریاست اور دیگر علاقوں میں معیارِ زندگی بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔


گورنر آچاریہ دیوورت 2019 سے اس عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور لڑکیوں کی تعلیم پر بھی کام کیا ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہے ہیں۔
قدرتی کھیتی کے فروغ پر بھی ان کی توجہ رہی ہے۔
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کا تاثراتی اندراج
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے گورنر ہاؤس کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔
انہوں نے پرتپاک استقبال پر گورنر کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اہم عالمی اور معاشرتی مسائل پر گفتگو کو بھی سراہا۔
شہزادہ رحیم نے مشترکہ اقدامات کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے مختلف اہم شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
گجرات میں جماعتی اور امامت کے اداروں کا کردار
گجرات میں جماعتی اور امامت کے اداروں نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے۔
ان کوششوں میں دیہی اور زرعی ترقی بھی شامل ہے۔
اداروں نے کسانوں کے اتحاد کی تشکیل میں معاونت کی ہے۔
زرعی زمینوں کی باڑ لگانے کے اقدامات میں بھی مدد کی گئی۔
آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے کاشتکاروں کو تکنیکی مشورے فراہم کیے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی ان اداروں کی طویل تاریخ ہے۔
گجرات میں پہلی آغا خان اسکول کی بنیاد 1905 میں موندرا میں رکھی گئی تھی۔
اس کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔
گجرات میں دو دیدار
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے گجرات کی جماعتوں کے لیے دو دیدار عطا کیے۔
ان میں شمالی اور مشرقی گجرات کی جماعتیں بھی شامل تھیں۔


جنوبی سوراشٹر کی جماعت کے لیے بھی خصوصی دیدار کا اہتمام ہوا۔
احمد آباد ہیڈکوارٹر جماعت خانہ کے مکھی نے بیعت پیش کی۔


انہوں نے شمالی اور مشرقی گجرات کی جماعتوں کی نمائندگی کی۔
بعد ازاں شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کو ایک فن پارہ پیش کیا گیا۔
اس فن پارے کا عنوان ’’وعدہ: بیا‘‘ تھا۔
اس میں قرآن پاک سے اخذ کردہ تصور کو فن کے ذریعے پیش کیا گیا۔



فن پارے کے گرد مختلف ٹائلز بھی شامل تھیں۔
ان پر نوجوان مریدوں کی ہتھیلیوں کے نقوش موجود تھے۔
یہ نقوش امام سے روزانہ بیعت کے عہد کی علامت تھے۔
جنوبی سوراشٹر کی جماعت کا دیدار
دوپہر کے اجلاس میں جنوبی سوراشٹر کی جماعت نے بیعت پیش کی۔
جوناگڑھ ہیڈکوارٹر جماعت خانہ کے مکھی نے جماعت کی نمائندگی کی۔
دیدار کے بعد شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کو ایک اور فن پارہ پیش کیا گیا۔
اس کا عنوان ’’بلوم آف گریٹیوڈ‘‘ تھا۔
فن پارے میں 10 ہزار سے زائد پھول استعمال کیے گئے تھے۔
ان پھولوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ لفظ ’’شکر‘‘ نمایاں ہوا۔
جماعت کے ہزاروں بزرگ اور معذور افراد بھی اس سرگرمی میں شریک ہوئے۔
انہوں نے مختلف جماعت خانوں اور لرننگ ریسورس سینٹرز میں فن پارے کی تیاری میں حصہ لیا۔
