Table of Contents
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں کے علاوہ دیگر جہازوں کے لیے بحری راستے محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں یہ مؤقف پیش کیا۔
ان کے مطابق تمام جہاز رانی کمپنیوں کے لیے بحری نقل و حرکت محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی جہاز پہلے سے اعلان کردہ پابندیوں کے تابع ہیں۔
ناکہ بندی کے جواب میں پابندیوں کا اعلان
یحییٰ سریع نے حوثیوں کی پالیسی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گروپ ناکہ بندی کے جواب میں پابندیاں جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق یہ اقدامات حملے اور ناکہ بندی ختم ہونے تک جاری رہیں گے۔
یہ بیان حوثیوں کی جانب سے بحری راستوں سے متعلق تازہ مؤقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یمنی فوجی اہلکار کا بحیرہ احمر سے متعلق دعویٰ
دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے اہم دعویٰ کیا ہے۔
اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
ان کے مطابق مغربی ساحل پر حکومت کے زیر کنٹرول تمام علاقے حوثیوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔
انہوں نے اس پیش رفت کو بحیرہ احمر میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے جوڑا۔
مایون اور ہانیش جزائر کا ذکر
یمنی فوجی اہلکار کے مطابق حوثیوں نے جزیرہ مایون پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
مایون جزیرہ آبنائے باب المندب کے قریب تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔
اہلکار نے گریٹر ہانیش اور لیزر ہانیش جزیروں کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق حوثیوں نے ان دونوں جزیروں پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے اہم بحری گزرگاہ پر حوثیوں کا کنٹرول مضبوط ہوا ہے۔
بحیرہ احمر کی صورتحال
یمنی اہلکار کے مطابق مغربی ساحل پر حکومت کے زیر کنٹرول تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے باب المندب کے آخری دو جزیروں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
ان دعووں کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی ہے۔
تاہم، ان علاقائی کنٹرول کے دعووں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
