Table of Contents
لاہور: پاکستانی کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوگئے۔
دونوں کھلاڑی لاہور میں این سی سی آئی اے جوہر ٹاؤن دفتر پہنچے۔
ذرائع کے مطابق دونوں سے تقریباً دو گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔
ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق سوالات
ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز سے مبینہ ڈریسنگ روم لیکس پر سوالات ہوئے۔
ان سے انگلینڈ سیریز کے دوران رابطوں سے متعلق بھی پوچھا گیا۔
پریکٹس اور میچز کے دوران ملاقاتوں کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔
تاہم مبینہ لیکس سے متعلق الزامات کی تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
دونوں کھلاڑیوں نے مزید جوابات جمع کرانے کے لیے وقت مانگا ہے۔
موبائل فون بھی تحقیقات کا حصہ
رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے کھلاڑیوں کے موبائل فون متعلقہ اداروں کو دیے تھے۔
این سی سی آئی اے موبائل فونز سے حاصل معلومات کا جائزہ لے رہی ہے۔
تفتیش میں ڈیجیٹل ڈیٹا اور رابطوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
ایک اور پاکستانی کرکٹر کو بھی این سی سی آئی اے نے نوٹس جاری کیا ہے۔
اس کھلاڑی کا نام تاحال سامنے نہیں آیا۔
لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم سے ریلیز
محمد رضوان اور امام الحق ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے۔
پی سی بی نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد انہیں اسکواڈ سے ریلیز کیا تھا۔
یہ فیصلہ انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچز کے بعد ہوا۔
پاکستان کو پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس کے بعد ٹیم میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے کھلاڑیوں کے نظم و ضبط سے متعلق بھی داخلی تحقیقات شروع کی ہیں۔ (The Guardian)
این سی سی آئی اے کی موجودہ کارروائی کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
