Table of Contents
نئی دہلی: اقوام متحدہ کے ایک نئے عالمی نقشے نے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کے گرد مختلف سرحدی لائنیں دکھائی گئی ہیں۔
یہ دونوں علاقے بھارت اور چین کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازع کا حصہ ہیں۔
بھارت اروناچل پردیش کو اپنی ریاست قرار دیتا ہے۔
نئی دہلی اکسائی چن کو بھی لداخ کا حصہ سمجھتا ہے۔
چین دونوں علاقوں سے متعلق بھارت کے مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔
نقشے میں کیا دکھایا گیا ہے؟
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے یہ نقشہ یکم جولائی 2026 کو جاری کیا تھا۔
نقشے میں اروناچل پردیش کی سرحدیں مختلف انداز میں دکھائی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریاست کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد نمایاں نہیں کی گئی۔
نقشے میں اروناچل پردیش کے گرد بھارتی اور چینی دعووں سے متعلق لائنیں دکھائی گئی ہیں۔
اکسائی چن کو بھی مختلف سرحدی لائنوں کے درمیان دکھایا گیا ہے۔
اس نقشے نے بھارت میں سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔
بھارت نے قرارداد کی حمایت کیوں کی؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 4 ستمبر کو ’’Correct the Map‘‘ قرارداد منظور کی۔
اس قرارداد کی قیادت ٹوگو اور افریقی یونین نے کی۔
مقصد دنیا کے نقشوں میں براعظموں کی زیادہ درست نمائندگی تھا۔
خاص طور پر افریقا کے رقبے کی درست عکاسی پر زور دیا گیا۔
قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا۔
امریکا نے قرارداد کی مخالفت کی۔
بھارت نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
بھارت کا مؤقف کیا ہے؟
بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ووٹ کا مطلب کسی مخصوص سرحدی نقشے کی حمایت نہیں ہے۔
نئی دہلی کے مطابق اس نے نقشہ سازی میں مساوی رقبے کی نمائندگی کے اصول کی حمایت کی۔
بھارت نے اپنے سرکاری سرحدی مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔
نئی دہلی کے مطابق اروناچل پردیش اور لداخ اس کے حصے ہیں۔
بھارت نے کسی بھی مختلف جغرافیائی عکاسی کو مسترد کرنے کا مؤقف اپنایا ہے۔
کیا اقوام متحدہ نے اروناچل پردیش کو آزاد خطہ قرار دے دیا؟
نہیں، اس معاملے میں قانونی حیثیت اور نقشہ جاتی عکاسی میں فرق ضروری ہے۔
نقشے میں کسی علاقے کو مختلف انداز میں دکھانا خودمختاری کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔
اقوام متحدہ کے نقشہ جاتی اصول بھی اس بات کی وضاحت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نقشے کسی علاقے کی حتمی خودمختاری کی توثیق نہیں کرتے۔
اقوام متحدہ کی اپنی نقشہ جاتی وضاحت میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو متنازع حیثیت والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔
’’Correct the Map‘‘ قرارداد کا اصل مقصد
قرارداد کا بنیادی مقصد بھارت یا چین کی سرحدوں کا فیصلہ کرنا نہیں تھا۔
اس کا مرکزی موضوع دنیا کے نقشوں میں جغرافیائی رقبے کی درست نمائندگی ہے۔
خاص طور پر روایتی Mercator نقشے میں افریقا کے حجم کو کم دکھانے پر اعتراض کیا گیا۔
نئی قرارداد Equal Earth جیسے مساوی رقبے کے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق قرارداد 164 ووٹوں سے منظور ہوئی۔
نقشے نے نیا تنازع کیوں پیدا کیا؟
نئے نقشے میں بھارت اور چین کے متنازع سرحدی دعووں کو مختلف لائنوں سے دکھایا گیا ہے۔
اس عکاسی نے بھارت میں تشویش پیدا کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کی سابقہ عکاسی سے فرق نظر آتا ہے۔
تاہم اس نقشے کو بھارت یا چین کی علاقائی خودمختاری کے بارے میں اقوام متحدہ کا نیا فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اصل تنازع دونوں ممالک کے باہمی سرحدی دعووں سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ مستقبل میں بھی سفارتی اور سیاسی بحث کا موضوع رہنے کا امکان ہے۔
