Table of Contents
کراچی، سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے قرارداد کی منظوری کے موقع پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے اپوزیشن اراکین کو مشترکہ قرارداد لانے کی دعوت دی تھی۔
مراد علی شاہ کے مطابق نثار کھوڑو نے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے قرارداد تیار کی۔
انتظامی یونٹس کی تجویز
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اپوزیشن نے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز دی۔
ان کے مطابق اس تجویز کو سندھ کی تقسیم کے بنیادی معاملے سے جوڑنا مناسب نہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام پر الگ بحث ہوسکتی تھی۔
ان کے مطابق اپوزیشن اس معاملے پر علیحدہ قرارداد بھی پیش کرسکتی تھی۔
مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی حمایت
وزیراعلیٰ سندھ نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے مزید اقدامات کرنے کو تیار ہے۔
مراد علی شاہ نے اپوزیشن سے انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں پر الگ قرارداد لانے کا کہا۔
ان کے مطابق اپوزیشن نے مشترکہ قرارداد پر اتفاق نہیں کیا۔
اپوزیشن اراکین نے بعد ازاں ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپوزیشن کے فیصلے کو بدنیتی قرار دیا۔
شرجیل میمن کی اپوزیشن پر تنقید
صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بھی اپوزیشن پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج اور واک آؤٹ کو بہانہ بنا رہی ہے۔
شرجیل میمن کے مطابق پی ٹی آئی نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایوان میں موجود رہی۔
ان کے مطابق دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
سندھ کی تقسیم پر سیاسی مؤقف
سندھ کی تقسیم کا معاملہ صوبے میں ایک حساس سیاسی موضوع ہے۔
حکومتی ارکان نے واضح کیا کہ وہ صوبے کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں انتظامی اصلاحات اور نئے یونٹس کے قیام کی بات کرتی رہی ہیں۔
اس معاملے پر سندھ اسمبلی میں سیاسی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس ملتوی
سندھ اسمبلی کا اجلاس کل دن ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اگلے اجلاس میں بھی صوبے کی انتظامی اور سیاسی صورتحال پر بحث کا امکان ہے۔
