Table of Contents
اوسلو، ناروے نے یوکرینی توانائی کمپنی کے معاوضے کے دعوے پر روسی بحری جہاز ضبط کرلیا۔
روسی بحری جہاز کا نام Professor Molchanov ہے۔ ناروے کے حکام نے اسے سوالبارڈ کے علاقے میں تحویل میں لیا۔
یہ کارروائی یوکرینی توانائی کمپنی Naftogaz کی درخواست پر کی گئی۔ کمپنی روس سے 4.22 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ناروے کی عدالت نے ضبطی کا حکم دیا
ناروے کی ایک عدالت نے 31 اگست کو جہاز ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکام نے اسی عدالتی حکم کے تحت کارروائی کی۔
Naftogaz کے مطابق روس پر 4.22 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ اس رقم میں سود اور قانونی اخراجات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
جہاز کو سوالبارڈ کے علاقے میں واقع بارینٹس برگ میں روک دیا گیا ہے۔ اسے موجودہ مقام سے روانہ ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
تنازع کی وجہ کیا ہے؟
یہ تنازع روس کے 2014 میں کریمیا کے الحاق سے جڑا ہے۔ روس نے اس دوران Naftogaz کے اثاثے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
ہیگ میں ایک ثالثی ٹریبونل نے 2023 میں روس کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹریبونل نے Naftogaz کے حق میں 4.22 ارب ڈالر کا فیصلہ دیا تھا۔
روس نے اب تک یہ رقم ادا نہیں کی۔ اس کے بعد Naftogaz نے مختلف ممالک میں روسی اثاثوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔
ناروے میں بھی اس ثالثی فیصلے کو قابلِ نفاذ قرار دیا جاچکا تھا۔ اسی بنیاد پر جہاز ضبط کرنے کی کارروائی ہوئی۔
روس نے ناروے کے اقدام کی مذمت کی
روسی حکام نے ناروے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اسے بحری قزاقی قرار دیا گیا۔
روسی حکام نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ماسکو اس کارروائی کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔
روسی جہاز کا استعمال
Professor Molchanov روسی ملکیت کا جہاز ہے۔ اسے تجارتی مہماتی سفروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ جہاز سوالبارڈ سمیت مختلف علاقوں میں سیاحتی سفر بھی کرتا ہے۔ ناروے کی کارروائی کے بعد جہاز کو روانگی سے روک دیا گیا ہے۔
Naftogaz نے روسی اثاثوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی ثالثی فیصلے پر عمل درآمد چاہتی ہے۔
