Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے تیل معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک بیان میں کیا۔
امریکی صدر کے مطابق ان کی ہدایت پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگس کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر کام کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے نجی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کے تیل کے بڑے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے نتیجے میں امریکا کے تیل کے ذخائر تقریباً دوگنا ہو جائیں گے۔
وینزویلا کے تیل پر امریکی توجہ
وینزویلا دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ امریکا گزشتہ کچھ عرصے سے اس ملک کے توانائی کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ امریکی ریفائنریوں کے لیے وینزویلا کے خام تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔
وینزویلا کی تیل کی صنعت طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہے۔ ملک میں خام تیل کی پیداوار اس وقت تقریباً 1.25 ملین بیرل یومیہ بتائی جاتی ہے۔
امریکی حکام وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔
پٹرول کی قیمتیں بھی اہم مسئلہ
امریکی انتظامیہ کو ملک میں پٹرول کی قیمتوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
ٹرمپ حکومت رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل توانائی کی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وینزویلا سے اضافی خام تیل کی فراہمی امریکی ریفائنریوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے امریکا میں تیل کی مجموعی رسد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ امریکی تزویراتی پٹرولیم ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کے لیے بھی مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے۔
ان میں امریکی تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ خام تیل کے تبادلے کا ممکنہ انتظام بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کا وینزویلا سے متعلق بڑا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنے بیان میں معاہدے کو امریکی مفادات کے لیے اہم قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے معاہدے کی مکمل مالی تفصیلات، مدت اور عملی طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی۔
اسی طرح وینزویلا کی حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے معاہدے کی تمام تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر کے دعوے کے مطابق اس معاہدے سے امریکا کو وینزویلا کے بڑے تیل وسائل تک رسائی ملے گی۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعلقات کی نئی سمت بھی سامنے آ سکتی ہے
