Table of Contents
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن کی جانب سے کینیڈا کی بعض درآمدی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بعض اشیا پر اضافی 50 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیرف تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات پر لاگو ہوگا۔
امریکا کا کینیڈا پر نیا ٹیرف
امریکی کسٹمز حکام نے کینیڈا کی بعض اشیا پر اضافی ڈیوٹی سے متعلق نئی رہنمائی بھی جاری کی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کینیڈا پر تجارتی معاہدے کو حتمی شکل نہ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا امریکا کے خلاف جوابی اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
جیمیسن گریر کے مطابق امریکا نے کینیڈا کو اپنی مارکیٹ تک زیادہ سازگار رسائی کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، ان کے بقول، اوٹاوا نے معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کیا۔
کینیڈا کا جوابی مؤقف
دوسری جانب کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کارنی نے کہا کہ مذاکرات میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق کینیڈین عوام کے لیے مقرر کیے گئے اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔
کینیڈین وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ اگر امریکا 50 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے تو کینیڈا بھی اسی مالیت کے ٹیرف کے ذریعے جواب دے گا۔
امریکا اور کینیڈا میں تجارتی کشیدگی
امریکی ٹیرف کے اعلان سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ دونوں حکومتیں کئی اہم تجارتی معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔
مذاکرات کی معطلی سے امریکا اور کینیڈا کے تجارتی تعلقات پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
