Table of Contents
واشنگٹن: امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کے 2 اہم عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
پابندیوں کا نشانہ آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے بنی ہیں۔
سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کیا۔
مارکو روبیو کا مؤقف
مارکو روبیو نے آئی سی سی پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے عدالت پر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کا الزام لگایا۔
روبیو کے مطابق آئی سی سی نے غیر متعلقہ حکومتوں کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے عدالت کے اقدامات کو بھی مسترد کیا۔
نیتن یاہو کے وارنٹ کا معاملہ
امریکی اقدام کا تعلق اسرائیلی وزیراعظم سے بھی جوڑا گیا ہے۔
آئی سی سی نے 2024 میں نیتن یاہو کا وارنٹ جاری کیا تھا۔
یہ وارنٹ غزہ جنگ سے متعلق الزامات کے تحت جاری ہوا تھا۔
اس وقت اسرائیل نے عدالت کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
امریکا نے بھی آئی سی سی کے اقدام کی مخالفت کی تھی۔
آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے
توموکو اکانے جاپان سے تعلق رکھنے والی جج ہیں۔
وہ مارچ 2024 سے آئی سی سی کی صدر ہیں۔
اکانے عدالت کی انتظامی قیادت کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔
امریکی پابندیوں سے ان کے امریکی اثاثے متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکی مالی نظام سے متعلق لین دین پر بھی پابندی عائد ہے۔
آئی سی سی کا ردِعمل
عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں پر ردِعمل دیا ہے۔
عدالت نے امریکی اقدام پر تشویش ظاہر کی۔
آئی سی سی کے مطابق عدالتی اہلکاروں کو دھمکانا خطرناک ہے۔
عدالت نے کہا کہ اس سے عالمی قانونی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
امریکا اور آئی سی سی میں کشیدگی
امریکا اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان اختلافات نئے نہیں ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی آئی سی سی حکام پر پابندیاں لگا چکی ہے۔
واشنگٹن عدالت کی تحقیقات پر مسلسل اعتراض کرتا رہا ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ آئی سی سی امریکی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔
تازہ پابندیوں سے دونوں کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں۔
