Table of Contents
دمشق/انقرہ: اسرائیل نے شام میں ایک ایئربیس پر فضائی حملے کیے ہیں۔
شامی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ منگل کو کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ کے بعد شامی حکومت کے اثاثوں پر یہ پہلا اسرائیلی حملہ ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اخباریہ نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ابو الدہر ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اڈے پر 8 فضائی حملے کیے۔
ان حملوں میں رن وے اور اسٹوریج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا
شامی فوجی ذرائع کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایئربیس کے قریب رہنے والے ایک شہری نے بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔
اسرائیلی فوج نے حملوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
شام کی وزارت دفاع کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
امریکی ایلچی نے اسرائیلی حملے پر تشویش ظاہر کردی
شام اور عراق کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے حملے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا۔
ٹام بیرک نے ابو الدہر ایئربیس پر اسرائیلی حملے کو غیر ضروری اضافہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی علاقائی استحکام کو آگے نہیں بڑھاتی۔
امریکی ایلچی نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
امریکا نے مذاکرات پر زور دیا
ٹام بیرک نے کہا کہ امریکا تحمل اور بات چیت کو زیادہ تعمیری راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مزید فوجی واقعات سے گریز کریں۔
ان کے مطابق مسائل کے حل کے لیے منطقی اور سنجیدہ گفتگو کو ترجیح دینی چاہیے۔
امریکی ایلچی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں کشیدگی برقرار ہے۔
ابو الدہر ایئربیس کی اہمیت
ابو الدہر ایئربیس ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ہے۔
یہ اڈہ 2013 سے ایک فعال فوجی ہوائی اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔
شام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران اس اڈے نے کئی مرتبہ فریقین کے ہاتھ بدلے۔
یہ اڈہ سابق صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز اور مخالف دھڑوں کے درمیان بھی تنازع کا مرکز رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی کا خدشہ
اسرائیلی حملے نے شام میں علاقائی کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی ایلچی نے بھی حملے کو علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
