Table of Contents
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے CNN کی رپورٹر کرسٹن ہومز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک معاون سے متعلق سوال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ واقعہ پیر کو اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش آیا۔ تقریب میں ایک نوعمر لائف گارڈ کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔
رپورٹر نے ٹرمپ سے سوال کیا
کرسٹن ہومز نے ٹرمپ سے ان کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ نیٹلی ہارپ سے متعلق سوال کیا۔
یہ سوال ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف کے حالیہ تبصرے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
اوسوف نے ایک مہم کی تقریر میں ٹرمپ پر ہارپ کے ساتھ سفر کرنے اور اپنے سیاسی کام کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ دینے کا الزام لگایا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے ہومز کے سوال کو نامناسب قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کی رپورٹر پر سخت تنقید
وائٹ ہاؤس کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہومز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ میں رپورٹر کے سوال کو سخت الفاظ میں مسترد کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اسے صدر کے خلاف ایک غیر ضروری حملہ قرار دیا۔
بعد ازاں ٹرمپ نے بھی ہومز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے رپورٹر کو "انتہائی بے عزت” قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایک موقع پر ہومز سے کہا کہ وہ بلند آواز میں بات کرتی ہیں اور انہیں خاموش رہنا چاہیے۔
انہوں نے CNN کو ایک بار پھر "جعلی خبریں” قرار دیا۔
CNN نے رپورٹر کا دفاع کیا
CNN نے اپنی رپورٹر کے خلاف وائٹ ہاؤس کے ردعمل کو مسترد کردیا۔
نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کرسٹن ہومز کے ساتھ کھڑا ہے۔
CNN کے مطابق رپورٹر پر اس طرح کے حملے قابل قبول نہیں ہیں۔
یہ واقعہ امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں پر تنقید کے سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے۔
نیٹلی ہارپ کے بارے میں سوالات کیوں اٹھے؟
نیٹلی ہارپ حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
وہ ٹرمپ کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ ہیں اور ماضی میں ٹیلی ویژن نیوز سے وابستہ رہی ہیں۔
جولائی میں ایئر فورس ون کی ایک خفیہ تبدیلی کے دوران بھی ہارپ ٹرمپ کے ساتھ موجود معاونین میں شامل تھیں۔
اس واقعے کے بعد ان کے کردار اور صدر کے ساتھ تعلقات سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر نے بھی تنقید کی
ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف نے حال ہی میں ٹرمپ پر تنقید کی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر اپنے سرکاری فرائض کے بجائے ذاتی منصوبوں اور ہارپ کے ساتھ سفر پر توجہ دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اوسوف کے بیان کو مسترد کردیا۔
انہوں نے سینیٹر کے حلیے پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے بھی اوسوف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان کشیدگی برقرار
تازہ واقعہ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔
ٹرمپ اکثر ان صحافیوں پر تنقید کرتے ہیں جو ان سے سخت یا متنازع سوالات کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس بھی بعض مواقع پر صدر کے ناقد صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیتا رہا ہے۔
