Table of Contents
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مفاہمت طاقت اور وقار کے ساتھ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اس عمل کے دوران دشمنوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔
مسعود پزشکیان نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمت پر تفصیلی گفتگو کی۔
ایرانی صدر کے مطابق، ایران نے امن کے لیے مذاکرات ضرور کیے۔ تاہم، اس نے اپنی قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
خامنہ ای کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا
پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمت تیار کرتے وقت علی خامنہ ای کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔
ان کے مطابق، معاہدے کی تیاری ماہرین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد ہوئی۔
ایرانی صدر نے مفاہمت کو قومی مفادات کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔
پاکستان نے مذاکرات میں کردار ادا کیا
پزشکیان کے مطابق، پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر 17 جون کو دستخط ہوئے تھے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی تھی۔ اس عمل میں دونوں جانب سے مذاکراتی وفود شریک ہوئے۔
مفاہمتی یادداشت میں 60 دن کی مدت
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں کئی اہم نکات شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق، فریقین نے جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک فریم ورک طے کیا تھا۔
اس مقصد کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کو 60 دن کی مدت دی گئی تھی۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ 60 روزہ مدت اب مکمل ہو رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
ایران اور امریکا کے تعلقات کئی برس سے کشیدگی کا شکار ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام بھی اہم تنازع رہا ہے۔
تاہم، حالیہ عرصے میں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں۔
ایرانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ مذاکرات قومی مفادات کے تحت ہوں گے۔
تہران یہ بھی واضح کرتا رہا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا۔
مفاہمت کے مستقبل پر نظر
پزشکیان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مفاہمت کو اہم پیش رفت سمجھتا ہے۔
تاہم، حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ بات واضح ہوگی کہ 60 روزہ فریم ورک کے بعد مذاکرات کس سمت جاتے ہیں۔
