Table of Contents
ماسکو میں پاکستان کا یوم آزادی موسیقی، ثقافت اور دوستی کے جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفارت خانے نے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔



تقریب میں سینکڑوں پاکستانی، روسی شہری اور پاکستان کے دوست شریک ہوئے۔ سفارتی کور کے متعدد ارکان بھی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے۔
تقریب نے پاکستانی ثقافت اور موسیقی کو روسی دارالحکومت میں اجاگر کیا۔ شرکا نے پاکستانی فنکاروں کی پرفارمنس کو بھرپور انداز میں سراہا۔


خماریاں نے پہلی بار ماسکو میں پرفارم کیا
یوم آزادی کی تقریب کی خاص بات پاکستانی ہائپر فوک بینڈ خماریاں (Khumariyaan) کی پرفارمنس تھی۔
بین الاقوامی سطح پر شہرت رکھنے والے اس بینڈ نے پہلی بار ماسکو میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ گروپ نے پاکستانی لوک موسیقی کو جدید انداز کے ساتھ پیش کیا۔
رباب کی آواز نے تقریب کو منفرد رنگ دیا۔ پاکستانی لوک دھنوں اور جدید موسیقی کے امتزاج نے روسی دارالحکومت میں موجود سامعین کو بھی متاثر کیا۔
سامعین نے پرفارمنس کا بھرپور استقبال کیا۔ ہال میں تالیاں گونجتی رہیں اور شرکا موسیقی کی دھنوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
رئیس خان نے بھی شاندار فن کا مظاہرہ کیا
تقریب میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازے گئے معروف وائلن نواز ماسٹر رئیس خان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
ان کی دھنوں نے تقریب میں موجود لوگوں کو خاص طور پر محظوظ کیا۔ ان کی موسیقی نے زبان کی رکاوٹ کے بغیر سامعین سے رابطہ قائم کیا۔
تقریب کے دوران پاکستانی موسیقی اور ثقافت کے مختلف رنگ نمایاں رہے۔ اس موقع نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ثقافتی رابطوں کو بھی اجاگر کیا۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی کا اظہار تشکر
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تقریب میں شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے روسی مہمانوں اور سفارتی کور کے ارکان کی شرکت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان کے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
سفیر نے اس موقع کو پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان دوستی کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا۔
موسیقی نے پاکستان اور روس کو قریب لایا
تقریب نے ثقافتی سفارت کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستانی موسیقی نے مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا۔
پاکستانی اور روسی شہریوں نے ایک ساتھ یوم آزادی کی خوشیاں منائیں۔ تقریب میں موسیقی، مسکراہٹوں اور باہمی دوستی کا ماحول نمایاں رہا۔
ماسکو میں ہونے والی یہ تقریب پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے عوامی اور ثقافتی روابط کی ایک خوبصورت مثال بھی بنی۔
