Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اگر بحری گزرگاہ دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکا سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دے دیا
وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ دن بھر جاری رہنے والے مذاکرات حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امید ہے کہ آبنائے ہرمز جلد بحال ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں اور کئی اہم امور پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی کچھ معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔
مجوزہ معاہدے میں کیا شامل ہے؟
صدر ٹرمپ کے مطابق زیرِ غور معاہدے کے دو بنیادی نکات یہ ہیں:
- آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی بحالی۔
- ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جامع اور مستقل حل۔
انہوں نے کہا کہ اگر باقی اختلافات بھی ختم ہو گئے تو معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔
ایران کو سخت وارننگ
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہ کھولا گیا تو امریکا سخت جواب دے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف بھی سامنے آگیا
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی متبادل یا نئی بحری راہداری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی غیر ملکی جنگی جہاز یا فوجی طاقت ایرانی شرائط کے خلاف علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
عمان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری
سفارتی ذرائع کے مطابق عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مسودۂ معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کی جا سکتی ہے۔ تاہم بحری راستوں کے انتظام، سیکیورٹی، معائنہ اور ممکنہ فیس جیسے اہم نکات پر ابھی مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحری راستے میں کشیدگی یا بندش عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
