Table of Contents
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک قائم پانچ امریکی سفارتی مشن بند کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام امریکی سفارتی نیٹ ورک کو محدود کرنے اور اخراجات میں کمی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی سفارتی موجودگی میں نمایاں کمی کی ایک غیر معمولی مثال ہوگی۔
کن ممالک میں امریکی مشن بند ہوں گے؟
ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے جن مشنوں کو بند کرنے کی تجویز دی ہے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- سینٹ جارج، گریناڈا (سفارت خانہ)
- ناگویا، جاپان (قونصل خانہ)
- میڈان، انڈونیشیا (قونصل خانہ)
- ڈوالا، کیمرون (برانچ آفس)
- وینی پیگ، کینیڈا (قونصل خانہ)
اطلاعات کے مطابق متعلقہ نوٹس گزشتہ ہفتے کانگریس کی بعض کمیٹیوں کو بھیجے گئے، تاہم انہیں ابھی تک عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
سفارتی موجودگی میں غیر معمولی کمی
ماہرین کے مطابق امریکی سفارتی مشن بند کرنے کا یہ منصوبہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ یہ کسی جنگ، سیکیورٹی بحران یا بڑے جغرافیائی سیاسی واقعے سے براہِ راست منسلک نہیں۔
عام طور پر امریکا مخصوص ہنگامی حالات میں ہی بیرونِ ملک اپنے سفارتی مشن بند کرتا ہے، جبکہ موجودہ منصوبہ انتظامی اور مالی اصلاحات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
"امریکا فرسٹ” پالیسی کا تسلسل
رپورٹس کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے ابتدائی دور میں بھی متعدد غیر ملکی مشن بند کرنے پر غور کیا تھا۔ اس اقدام کو "امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت وفاقی اخراجات کم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے تقریباً 30 غیر ملکی مشنوں کو بند کرنے کی تجویز بھی دی تھی، تاہم اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
محکمہ خارجہ کا مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ نے بندش کی خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
تاہم، ایک بیان میں محکمہ نے کہا کہ اس کی ترجیح ایک موثر اور فعال سفارتی نیٹ ورک برقرار رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ کانگریس کو آگاہ کرنے کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
ناقدین نے خدشات ظاہر کر دیے
ڈیموکریٹ رہنماؤں، سابق سفارت کاروں اور قومی سلامتی کے بعض ماہرین نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق امریکی سفارتی موجودگی میں کمی اور بین الاقوامی امدادی پروگراموں میں کٹوتیاں عالمی سطح پر امریکا کے اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتی ہیں۔
ان ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں چین اور روس جیسے ممالک مختلف خطوں میں اپنا سفارتی اور سیاسی اثر بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
مختلف نوعیت کے سفارتی دفاتر متاثر ہوں گے
مجوزہ منصوبے کے تحت مختلف نوعیت کے امریکی سفارتی دفاتر بند کیے جا سکتے ہیں۔
ان میں گریناڈا میں امریکی سفارت خانہ، جاپان، کینیڈا اور انڈونیشیا کے قونصل خانے، جبکہ کیمرون میں امریکی سفارت خانے کا برانچ آفس شامل ہے۔
یہ دفاتر عام طور پر دارالحکومت سے باہر امریکی شہریوں کی خدمات، قونصلر امور اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چین کے تناظر میں بھی بحث
رپورٹ کے مطابق سابق امریکی انتظامیہ نے بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی نئے سفارتی مشن قائم کیے تھے۔
دوسری جانب، چین پہلے ہی گریناڈا، جاپان اور انڈونیشیا میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث امریکی منصوبے پر جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھی بحث جاری ہے۔
