واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ویک اینڈ پر ایران کے خلاف مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کر دیا ہے، تاہم اس فیصلے کو فوری سفارتی پیش رفت اور ممکنہ معاہدے سے مشروط قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ فی الحال مؤخر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جلد کسی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کا موقع دیا جا سکے۔
امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار امریکی حکومت کے پاس موجود ہے، تاہم موجودہ ترجیح کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کرنا اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

