ریاض/واشنگٹن: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی اور خطے میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران پر امریکا کے ممکنہ بڑے حملوں کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں اور ایران پر حملوں سے گریز کریں۔
رپورٹس کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان بھی امریکا سے مسلسل رابطے میں ہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔
ادھر قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ، امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بحال رکھنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے جاری سفارتی مذاکرات میں بھی کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ مزید تصادم سے بچا جا سکے اور توانائی کی عالمی رسد متاثر نہ ہو۔

