پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں میزبان ٹیم کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز کی شاندار بولنگ نے میچ کا رخ بدل دیا۔ شان مسعود اور سلمان علی آغا کی ذمہ دارانہ شراکت ختم ہوتے ہی پاکستان کی بیٹنگ لائن بکھر گئی اور آخری پانچ وکٹیں صرف 15 رنز کے اضافے سے گر گئیں۔
میچ کے تیسرے روز کے پہلے سیشن میں شان مسعود اور سلمان علی آغا نے محتاط اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن مستحکم کی۔ اسی دوران شان مسعود نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی ساتویں سنچری مکمل کی اور ٹیم کو 250 رنز کے قریب پہنچا دیا۔
تاہم پاکستان کی اننگز اس وقت مشکلات کا شکار ہوگئی جب تجربہ کار فاسٹ بولر کیمر روچ نے سلمان علی آغا کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد جسٹن گریوز نے شان مسعود کو بولڈ کر کے پاکستان پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔
جسٹن گریوز نے نپی تلی اور مؤثر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عامر جمال، علی عثمان، محمد رضوان اور محمد عباس کی وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ایک مرحلے پر مسلسل چار میڈن اوورز کرا کر پاکستانی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر جکڑے رکھا۔
پاکستان کی جانب سے شان مسعود 109 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ امام الحق نے 63 رنز کی اننگز کھیلی۔ بابر اعظم 23، سلمان علی آغا 20 اور محمد رضوان 12 رنز بنا سکے۔ مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر کی ناکامی کے باعث پوری ٹیم پہلی اننگز میں 282 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے تھے، جس کے باعث اسے پاکستان پر 29 رنز کی اہم برتری حاصل ہوگئی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے کاویم ہوج نے 84 جبکہ کپتان شائی ہوپ نے 92 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کی مجموعی اسکور میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے محمد علی نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد عباس نے 3، خرم شہزاد نے 2 اور عامر جمال نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اب میچ کے اگلے مرحلے میں پاکستان کی نظریں ویسٹ انڈیز کو کم سے کم مجموعے تک محدود رکھنے پر ہوں گی تاکہ دوسری اننگز میں ہدف کا کامیابی سے تعاقب کیا جا سکے۔

