نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج بدستور جاری ہے، جہاں مظاہرین امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تحریک کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے سماجی کارکن سونم وانگ چک کی جانب سے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگ چک کی زندگی ملک کے لیے انتہائی قیمتی ہے اور ان کا فیصلہ قابلِ احترام ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سونم وانگ چک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم تحریک اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا اور طلبہ کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ابھیجیت دیپکے نے مزید کہا کہ سونم وانگ چک کی قربانی اور احتجاج کے دوران طلبہ پر ہونے والے مبینہ پولیس تشدد کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، جبکہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کے مطابق حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان آج دوپہر 12:30 بجے مذاکرات ہوں گے، جن کے لیے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کو مقام مقرر کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ احتجاجی قیادت حکومت کے ساتھ کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوگی اور امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے طلبہ کے مسائل کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے گا۔

