تہران/واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے مسلسل دسویں رات بھی ایران میں فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
برطانوی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ ہوا، جس کے بعد عملے کو حفاظتی اقدامات کے تحت جہاز چھوڑنا پڑا۔ اسی دوران ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں سمیت متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا ہے کہ تازہ فضائی حملوں میں ایران کی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے فوجی کمانڈ مراکز، میزائل تنصیبات اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس، تبریز اور بوشہر سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یمن کی حوثی تحریک کے ایک عہدیدار نے اعلان کیا کہ باب المندب کی آبنائے کے ذریعے سعودی بحری جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یمن پر برسوں سے جاری پابندیوں اور ناکہ بندی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ سعودی عرب نے جواب میں کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی بحری تجارت اور جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ ملک نے "مکمل جنگ” کے مرحلے سے واپسی اختیار کر لی ہے، تاہم اسی دوران ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی پاکستان پہنچے، جہاں وہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے ذریعے علاقائی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بات چیت کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کی "بھاری قیمت” چکانا ہوگی، جبکہ امریکی حملے اسی تناظر میں جاری ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی کمی کے بعد تقریباً 88.87 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 82.47 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اسی دوران لبنان میں بھی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لبنانی فوج نے جنوبی علاقوں کے متعدد دیہات میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنوبی لبنان میں سکیورٹی انتظامات اور اسرائیلی انخلاء سے متعلق جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

