منیلا: جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئی دشمنیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن، توانائی کی سپلائی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جاری آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران 11 رکنی تنظیم اور اس کے اہم شراکت دار ممالک کے نمائندوں نے خطے کو درپیش سکیورٹی اور سفارتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، توانائی کی فراہمی اور مہنگائی سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیں۔
اجلاس میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کا بھی ذکر کیا گیا، جسے خلیجی خطے اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔
آسیان ممالک، جن کی مجموعی معیشت تقریباً 3.8 ٹریلین ڈالر پر مشتمل ہے، تیل کے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہیں۔ اس تناظر میں رکن ممالک نے توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے آسیان آئل شیئرنگ میکانزم کو تیز رفتاری سے فعال بنانے پر بھی غور کیا۔
اجلاس کے دوران میانمار کی صورت حال بھی ایجنڈے میں شامل رہی، جہاں فوجی اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ سال بعد بھی سیاسی بحران اور مسلح تصادم جاری ہے۔ وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اجلاس کا اہم موضوع رہی۔ فلپائن نے حالیہ واقعے میں چین کے کوسٹ گارڈ پر اپنے بحری اہلکار کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام عائد کیا، جبکہ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ نے چین کے اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں خطے میں استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ توقع ہے کہ اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان بھی ملاقات ہو سکتی ہے، جبکہ بھارت، جاپان، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، روس، برطانیہ اور یورپی یونین کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
آسیان اجلاس کو موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں اہم سفارتی پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں علاقائی سلامتی، توانائی، تجارت اور تنازعات کے پرامن حل پر مختلف ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

