Table of Contents
لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر نے کہا ہے کہ وہ کبھی دوسری شادی کے خلاف نہیں رہیں، تاہم شاید یہ ان کی قسمت میں نہیں تھی۔
ڈرامہ سیریلز "بلبلے” اور "قدوسی صاحب کی بیوہ” سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی ذاتی زندگی، طلاق اور بطور سنگل مدر گزرے سفر پر تفصیل سے گفتگو کی۔
24 سال کی عمر میں طلاق ہوئی
حنا دلپذیر نے بتایا کہ ان کی طلاق اس وقت ہوئی جب وہ صرف 24 سال کی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک گھر اور خاندان ہمیشہ بہت اہم رہے ہیں، لیکن اگر دو افراد ایک ساتھ خوشگوار زندگی نہیں گزار سکتے تو بہتر ہے کہ وہ باہمی احترام کے ساتھ الگ ہو جائیں۔
اداکارہ کے مطابق ہر شخص کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی اور ضروری نہیں کہ ہر کسی کی قسمت میں روایتی خاندانی زندگی لکھی ہو۔
"دوسری شادی کے خلاف نہیں تھی”
حنا دلپذیر نے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی دوسری شادی کے خلاف نہیں رہیں، تاہم ان کے بقول دوبارہ شادی ان کی قسمت میں نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو خود ترسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنے حالات کو حوصلے، وقار اور مثبت سوچ کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔
سنگل والدین کے لیے اہم پیغام
اداکارہ نے سنگل والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو کسی خاص صورتِ حال میں رکھا ہے تو اس پر صبر، اعتماد اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہر حال میں اپنے بندوں کا ساتھ دیتا ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بطور سنگل مدر اپنے بیٹے کی پرورش کی، جو اب اپنی ازدواجی زندگی خوش اسلوبی سے گزار رہا ہے۔
حنا دلپذیر کا کہنا تھا کہ زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز کے باوجود امید، محنت اور اللہ پر بھروسہ انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

