واشنگٹن: قطر کی جانب سے امریکا کو تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے خفیہ معلومات افشا ہونے کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے متعدد صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق "نیویارک ٹائمز” کے چار صحافیوں کو عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں، جن میں انہیں گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہو کر گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس حساس معاملے کی نگرانی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے سپرد کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کاش پٹیل نے تحقیقات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں تقریباً آٹھ گھنٹے گزارے تاکہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ روانگی کے دوران نئے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کر کے گئے تھے، تاہم ترکیہ سے برطانیہ روانگی کے لیے انہوں نے آخری لمحات میں پرانے ایئر فورس ون کا استعمال کیا۔
امریکی اخبار کے مطابق خفیہ سروس نے سکیورٹی خدشات کے باعث صدر ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی کیونکہ نئے طیارے میں بعض جدید حفاظتی اور انسداد دہشت گردی ٹیکنالوجیز مکمل طور پر نصب نہیں تھیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے وضاحت کی ہے کہ تحقیقات کا مقصد صحافیوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان افراد کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات غیر مجاز طور پر افشا کیں۔
یہ معاملہ امریکا میں قومی سلامتی، میڈیا کی آزادی اور خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
