اسلام آباد: پاکستان میں انڈونیشیا کے سفارت خانے اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (PRCS) کے اشتراک سے دو روزہ بنیادی ابتدائی طبی امداد اور ایمرجنسی رسپانس ٹریننگ کامیابی سے مکمل ہو گئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان انسانی ہمدردی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

9 اور 10 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس تربیتی ورکشاپ میں پاکستان میں تعینات آسیان (ASEAN) کے رکن ممالک کے سفیروں اور نمائندوں، ان کے اہل خانہ، پاکستان میں مقیم انڈونیشیائی کمیونٹی اور انڈونیشی طلبہ نے شرکت کی۔
تربیتی سیشن کی قیادت پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے کمرشل فرسٹ ایڈ ٹریننگ آفیسر عبداللہ واجد نے کی۔ شرکاء کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے عملی تربیت فراہم کی گئی، جس میں سی پی آر (CPR)، ابتدائی طبی امداد، زخموں اور فریکچر کا علاج، جلنے کے واقعات، دم گھٹنے، دل کے ہنگامی امراض، زخمیوں کی محفوظ منتقلی، ٹرائیج اور ہنگامی صورتحال کے ابتدائی جائزے جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشی سفارت خانے کے کونسلر فیری جے مرڈیانسیاہ نے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بیرون ملک مقیم شہریوں اور کمیونٹیز کی حفاظت کے لیے ہنگامی تیاری ہر سفارت کار اور کمیونٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ایمرجنسی رسپانس صرف ایک تکنیکی مہارت نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کی اسلام آباد میں آسیان کمیٹی (ACI) کی چیئرمین شپ کے دوران منعقدہ خون عطیہ مہم اور ایمرجنسی رسپانس ٹریننگ، عملی تعاون کے ذریعے انسانی ہمدردی کی سفارت کاری کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف پاکستان میں آسیان کمیونٹی کی استعداد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط اور باہمی تعاون کو بھی مزید مستحکم بناتے ہیں۔
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی آسیان سفارتی مشنز کے ساتھ مستقبل میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ کمیونٹیز کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ایک محفوظ اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔
یہ مشترکہ تربیتی پروگرام پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان انسانی ہمدردی، استعداد سازی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ آسیان اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
