بیجنگ: چینی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ چین نام نہاد "بحیرۂ جنوبی چین ثالثی فیصلے” کو نہ قبول کرتا ہے، نہ تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی بھی دعوے یا اقدام کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این (CGTN) کے مطابق وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین متعدد مواقع پر اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے کہ نام نہاد ثالثی فیصلہ غیر قانونی، کالعدم اور کسی بھی قسم کی قانونی حیثیت یا پابندی سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر کیے جانے والے کسی بھی اقدام یا دعوے کو قبول نہیں کرے گا۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل کے ضابطۂ کار” (Code of Conduct) کی تیاری، "بحیرۂ جنوبی چین میں فریقین کے طرزِ عمل سے متعلق اعلامیے” (DOC) پر عمل درآمد کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ چین اور آسیان (ASEAN) ممالک کے درمیان مشترکہ اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق چین ہمیشہ سے آسیان ممالک کے ساتھ مشاورت کے عمل کو تیز کرنے، جلد از جلد ضابطۂ کار پر اتفاقِ رائے تک پہنچنے اور مشترکہ طور پر بحیرۂ جنوبی چین میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد ثالثی فیصلے کا مجوزہ ضابطۂ کار سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے فلپائن کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے کو ضابطۂ کار کی تکمیل یا مذاکراتی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
