امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج آج اپنی تاریخ کی مضبوط ترین حالت میں ہے اور دنیا میں کوئی ایسا چیلنج نہیں جس کا مقابلہ امریکا نہ کر سکے۔
واشنگٹن میں امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی طاقت، ملکی ترقی اور اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک نئے "سنہری دور” میں داخل ہو چکا ہے۔
بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں بیرونِ ملک امریکی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وینزویلا اور ایران کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے لیے کوئی ہدف ناقابلِ حصول نہیں اور نہ ہی دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں امریکی صلاحیتیں نہ پہنچ سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھرتیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اب ان شعبوں میں ملازمت حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔
انہوں نے اپنی حکومت کی مختلف پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے سیو امریکا ایکٹ، پیدائشی شہریت کے حق سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر اور امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے تحفظ کو اپنی اہم کامیابیوں میں شامل کیا، جو شہریوں کو اسلحہ رکھنے کا آئینی حق فراہم کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کوریا اور ویتنام کی جنگوں میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ کامیابیاں صرف آغاز ہیں اور امریکا کا سنہری دور ابھی شروع ہوا ہے۔
خراب موسم کے باوجود تقریب کا انعقاد
واشنگٹن میں یومِ آزادی کی تقریبات طوفان، بارش اور گرج چمک کے باعث کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئیں، تاہم صدر ٹرمپ نے تقریب ملتوی کرنے سے انکار کر دیا۔
تقریب سے خطاب کے آغاز میں انہوں نے حاضرین سے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ تقریب آسانی سے منعقد ہوئی تو ایسا ہرگز نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں تقریب کسی اور دن کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے اختتام پر امریکی یومِ آزادی کی مناسبت سے شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔
