پاکستان کے عظیم صوفی اور لوک گلوکار الن فقیر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 برس بیت گئے، تاہم ان کی دلکش آواز، منفرد طرزِ گائیکی اور صوفیانہ انداز آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
الن فقیر کی 26ویں برسی کے موقع پر جامشورو میں سادگی کے ساتھ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
تقریب میں ادیبوں، فنکاروں، سماجی کارکنوں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے الن فقیر کی فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد میں خصوصی دعائیں کیں۔
مقررین نے کہا کہ الن فقیر نے اپنی منفرد آواز، صوفیانہ کلام اور دل موہ لینے والے رقص کے ذریعے پاکستان کی ثقافت اور موسیقی کو نئی شناخت دی۔ ان کی گائیکی نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان اور بیرونِ ملک بھی بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ الن فقیر صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ صوفی روایت، محبت، امن اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت تھے۔ ان کے گائے ہوئے گیت اور صوفیانہ کلام آج بھی لوگوں کے دلوں میں روحانی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
ادیبوں اور سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ الن فقیر کے فن اور خدمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ان کے نام سے ثقافتی، ادبی اور موسیقی کے پروگراموں کا انعقاد کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافتی وراثت سے آگاہ ہو سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے عظیم فنکاروں کی خدمات کو محفوظ اور اجاگر کرنا قومی ذمہ داری ہے اور الن فقیر جیسے فنکاروں کا تعارف نئی نسل سے کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ الن فقیر کو پاکستان کے نمایاں لوک اور صوفی گلوکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی مخصوص گائیکی، صوفیانہ انداز اور منفرد شخصیت نے انہیں برصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
