واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) ختم کرنے سے متعلق ان کے ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا اور آئین کے تحت پیدائشی حقِ شہریت برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت حاصل پیدائشی شہریت کا حق بدستور برقرار رہے گا، لہٰذا صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس آئینی حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
خواجہ سرا ایتھلیٹس سے متعلق بھی اہم فیصلہ
عدالتِ عظمیٰ نے ایک علیحدہ فیصلے میں امریکی ریاستوں کو یہ اختیار بھی دے دیا کہ وہ خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) ایتھلیٹس کو خواتین کے کھیلوں میں شرکت سے روکنے کے لیے اپنے قوانین نافذ کر سکتی ہیں۔
اس فیصلے کو امریکا میں کھیلوں، صنفی شناخت اور ریاستی اختیارات سے متعلق جاری قانونی مباحث میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے فیصلے کو "افسوسناک” قرار دے دیا
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "ملک کے لیے انتہائی افسوسناک فیصلہ” قرار دیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیدائشی شہریت کا موجودہ قانون امریکا کے لیے مہنگا اور غیر منصفانہ ہے، تاہم اگر عدالتی راستہ بند ہو گیا ہے تو کانگریس کے ذریعے قانون سازی کر کے اس پالیسی کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے کسی طویل اور پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں بلکہ سادہ قانون سازی کے ذریعے بھی یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ پیدائشی شہریت کے قانون میں تبدیلی کے لیے فوری طور پر قانون سازی کا آغاز کرے، اور اس سلسلے میں اپنی مکمل سیاسی حمایت کا بھی اعلان کیا۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے ایک اہم عدالتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے بعد پیدائشی شہریت کے معاملے پر سیاسی اور قانونی بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔
