اسلام آباد: پاکستان اور اٹلی کے درمیان زرعی شعبے میں تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے 20 ملین یورو کے رعایتی قرض کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی وزارتِ اقتصادی امور نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا۔
اعلامیے کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (TVET) کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور بالخصوص زرعی شعبے میں افرادی قوت کی مہارت میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ زرعی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق منصوبے کے تحت کسانوں، زرعی توسیعی عملے اور زرعی شعبے سے وابستہ دیگر افراد کے لیے جدید تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ باغبانی، زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کی مہارت بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے دوران زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام سمیت اعلیٰ قدر کی حامل زرعی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے اٹلی کی جدید زرعی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کی زرعی استعداد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق اس منصوبے کے تحت پانچ زرعی و غذائی پراسیسنگ یونٹس اور دو قومی مراکزِ امتیاز (National Centers of Excellence) بھی قائم کیے جائیں گے۔ ان میں سرگودھا میں کینو اور مالٹے کی پیداوار و ویلیو ایڈیشن کے لیے جبکہ تربت میں کھجور کی پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے زرعی شعبے میں جدید مہارتوں کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، زرعی مصنوعات کی معیار میں بہتری اور برآمدات میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے، جبکہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان اقتصادی و ترقیاتی تعاون کو بھی مزید تقویت ملے گی۔
