اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی 1.5 ٹریلین ڈالر کی اسٹیٹ، لوکل اینڈ ایجوکیشن (SLED) پبلک پروکیورمنٹ مارکیٹ تک رسائی دلانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے تاکہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں حکومت کے تعاون سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے منعقدہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی برآمدی شراکت دار ہے، جہاں ملک کی مجموعی آئی ٹی برآمدات کا 62 فیصد جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی SLED مارکیٹ تقریباً 90 ہزار ریاستی، مقامی اور تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے، جہاں سافٹ ویئر، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے لیے سالانہ 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد کی خریداری کی جاتی ہے۔
وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت نے ابتدائی مرحلے میں 74 پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس مارکیٹ میں کامیابی سے حصہ لینے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کی ہے۔ اس پائلٹ منصوبے پر تقریباً 6 سے 7 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت کو اس کے ابتدائی مثبت تجارتی نتائج بھی موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ مستقبل میں ایسے تربیتی پروگراموں کی کامیابی کا جائزہ صرف شرکاء کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بنیاد پر لیا جائے گا کہ کتنی کمپنیوں نے بیرونِ ملک معاہدے حاصل کیے، کتنی آمدنی پیدا ہوئی اور کتنے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پبلک فنڈنگ سے چلنے والے ٹیکنالوجی پروگراموں کے لیے ایک نیا جائزہ نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت پروگرام مکمل ہونے کے چھ ماہ بعد آزادانہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ شرکاء کو ملازمت ملی، انہوں نے کاروبار شروع کیا یا بین الاقوامی تجارتی معاہدے حاصل کیے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان روایتی برآمدات پر انحصار کم کرتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے رہا ہے اور آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) اور فری لانسنگ جیسے شعبوں کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں، خصوصاً امریکہ کی سرکاری خریداری کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے ٹیکنالوجی برآمدات کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے، جس سے ملکی معیشت، روزگار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی تقویت ملے گی۔
