ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے ملک میں سیاحتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے "ٹورزم اے آئی ویژن” (Tourism AI Vision) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے سیاحوں کو بہتر خدمات فراہم کرنا، آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاروں و سیاحتی شعبے سے وابستہ اداروں کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے بااختیار بنانا ہے۔
وزارتِ سیاحت نے اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ویژن سعودی عرب میں اسمارٹ ٹورزم کی جانب منتقلی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے جدید، پائیدار اور عالمی معیار کے سیاحتی نظام کی تشکیل ممکن بنائی جائے گی۔
بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والی سیاحت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانا ہے، جہاں جدید ڈیجیٹل حل کے ذریعے خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا، سیاحوں کے سفر کو زیادہ آسان اور منفرد بنایا جائے گا اور عالمی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق ٹورزم اے آئی ویژن پانچ بنیادی تزویراتی ستونوں پر استوار ہے، جن میں:
- عالمی قیادت (Global Leadership)
- سیاحوں کے سفر کے معیار میں بہتری
- آپریشنل تبدیلی (Operational Transformation)
- ذمہ دارانہ جدت (Responsible Innovation)
- سیاحتی نظام کو بااختیار بنانا
شامل ہیں۔ یہ ستون سعودی عرب کے سیاحتی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
وزارتِ سیاحت نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سیاح کے سفر کے ہر مرحلے میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جائے گا تاکہ بکنگ، رہنمائی، خدمات، نقل و حمل اور دیگر سہولیات کو زیادہ مؤثر اور سہل بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں اور سیاحتی اداروں کو جدید ڈیجیٹل ٹولز مہیا کیے جائیں گے تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت اور کاروباری کارکردگی میں اضافہ ہو سکے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، قومی معیشت کو متنوع بنانے اور سیاحت کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ عالمی صنعت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
