بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کو اس وقت ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا جب دہلی سے امرتسر جانے والی ایک پرواز مختصر وقت کے لیے غیر ارادی طور پر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گئی۔ واقعے کے بعد بھارتی سول ایوی ایشن حکام نے محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 22 جون کی شب اس وقت پیش آیا جب ایئر انڈیا کی پرواز AI479 امرتسر ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تیاری کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک دوسرے طیارے سے پرندہ ٹکرانے (برڈ اسٹرائیک) کے واقعے کے باعث رن وے کا معائنہ جاری تھا، جس کے نتیجے میں آنے والی پروازوں کو فضا میں انتظار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے مطابق فضائی ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کے تحت ریڈار کی مدد سے لینڈنگ کی کوشش کے دوران طیارہ غیر ارادی طور پر تقریباً تین میل تک پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے دوران پاکستان کے فضائی ٹریفک کنٹرول حکام سے فوری رابطہ کیا گیا، جس کے بعد طیارہ دوبارہ بھارتی فضائی حدود میں واپس آ گیا۔ تاہم امرتسر میں لینڈنگ کے لیے مزید انتظار اور کم ایندھن کے باعث پرواز کو واپس دہلی منتقل کیا گیا، جہاں طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی۔
ڈی جی سی اے نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ابتدائی کارروائی کے طور پر متعلقہ پائلٹ کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امرتسر ایئرپورٹ کے ایک فضائی ٹریفک کنٹرولر کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی گئی ہے کیونکہ اس نے واقعے کی بروقت رپورٹ متعلقہ حکام کو نہیں دی۔
ایئر انڈیا نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ معمولی فاصلے تک پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ کمپنی کے مطابق تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور داخلی سطح پر بھی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی آمدورفت سخت پابندیوں اور خصوصی انتظامات کے تحت جاری ہے۔
