ماسکو: روس نے سفارتی کشیدگی میں اضافے کے درمیان رومانیہ کے سینٹ پیٹرزبرگ میں قائم قونصل خانے کو بند کرنے اور رومانیہ کے قونصل جنرل کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق Saint Petersburg میں واقع رومانیہ کے قونصل خانے کی سرگرمیاں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ رومانیہ کے قونصل جنرل کو روس چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس فیصلے سے قبل روس میں تعینات رومانیہ کے سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور ماسکو کے مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔
دوسری جانب Bucharest میں رومانیہ کی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روس کا یہ اقدام متوقع تھا اور بخارسٹ کو اس قسم کے جوابی فیصلے کا پہلے ہی اندازہ تھا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب یوکرین پر روسی حملوں کے دوران ایک روسی ڈرون رومانیہ کے مشرقی علاقے میں گر گیا تھا۔ واقعے کے بعد رومانیہ نے روسی قونصل جنرل کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا تھا۔
مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ سفارتی اقدامات یوکرین جنگ کے تناظر میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کی بندش اور سفارتکاروں کی بے دخلی روس اور رومانیہ کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ روس اور رومانیہ کے تعلقات حالیہ برسوں میں یوکرین تنازع، نیٹو کی توسیع اور مشرقی یورپ کی سلامتی سے متعلق معاملات کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں۔
