تہران: ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف ایران کی جانب سے منظور شدہ بحری راستے استعمال کریں اور کسی بھی غیر مجاز یا متبادل گزرگاہ سے گریز کریں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق Islamic Revolutionary Guard Corps نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ بعض حکام نے اسلامی جمہوریہ ایران کو پیشگی اطلاع یا مشاورت کے بغیر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک نیا راستہ متعارف کرایا، جسے ایران ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک سمجھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کے لیے صرف وہی راہداریوں کو قانونی اور مجاز تصور کیا جائے گا جو ایران نے باضابطہ طور پر مقرر کی ہیں۔ ان راستوں سے ہٹ کر کسی بھی قسم کی جہاز رانی نہ صرف خطرناک ہے بلکہ ممنوع بھی ہے۔
آئی آر جی سی نے تمام تجارتی اور بحری جہازوں پر زور دیا کہ وہ مقررہ بحری راہداریوں سے باہر کسی قسم کی نقل و حرکت سے سختی سے اجتناب کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا سکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا پابندی عالمی توانائی کی منڈیوں اور سمندری تجارت پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور بحری نقل و حرکت سے متعلق حساسیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قواعد و ضوابط سے متعلق کسی بھی تنازع کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
