Table of Contents
ٹوکیو / واشنگٹن / تہران: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے – IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اصرار کیا ہے کہ ایجنسی کے انسپکٹرز بالآخر ایران کی حساس جوہری افزودگی کی تنصیبات کا معائنہ کریں گے۔ ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چاہے یہ معائنہ پرسوں ہو، ایک ہفتے بعد ہو یا 10 دن بعد، یہ عمل بہرحال ہو کر رہے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ
ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور بین الاقوامی معائنوں کے حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کے مؤقف میں ایک بار پھر نمایاں اختلاف سامنے آیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی سخت تردید
دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کا فی الحال جوہری مقامات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایرانی حکام کی رافیل گروسی سے کوئی حالیہ ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ممکنہ معائنے کے حوالے سے کوئی واضح شیڈول طے پایا ہے۔
مستقبل کی صورتِ حال بدستور غیر واضح
دونوں ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے ان متضاد بیانات کے باعث ایران کی جوہری تنصیبات تک عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کی رسائی اور مستقبل کی مانیٹرنگ کے حوالے سے صورتِ حال بدستور ابہام کا شکار ہے۔ تاہم، آئی اے ای اے کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ نگرانی کا عمل کسی نہ کسی مرحلے پر دوبارہ ضرور شروع ہو گا۔
