بیجنگ/واشنگٹن: چینی ای کامرس کمپنی علی بابا نے خود کو ’’چینی فوجی کمپنی‘‘ قرار دیے جانے کے امریکی فیصلے کے خلاف امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی بابا نے کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے کی وفاقی عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی کا چینی فوج یا دفاعی اداروں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں اور اسے بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ قانونی بنیادوں سے بھی محروم ہے۔
عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ علی بابا ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت کام کرتی ہے اور اس کے کسی بھی رکن کا چینی فوج یا عسکری اداروں سے کوئی تعلق نہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کی مصنوعات اور خدمات بنیادی طور پر ریٹیل، لاجسٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور انٹرپرائز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے تیار کی جاتی ہیں، نہ کہ اسلحہ سازی، دفاعی یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے۔
علی بابا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا نام ان کمپنیوں کی فہرست سے نکالا جائے جنہیں واشنگٹن نے مبینہ طور پر چینی فوج کی معاونت کرنے والی کمپنیوں کے طور پر نامزد کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت نے 8 جون کو علی بابا کو ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ چینی فوج کے ساتھ روابط یا تعاون رکھتی ہیں۔ اسی فہرست میں چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائے ڈی (BYD) اور سرچ انجن کمپنی بائیڈو (Baidu) کے نام بھی شامل کیے گئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع کی نامزد کردہ ’’چینی فوجی کمپنیوں‘‘ کی فہرست میں اب مجموعی طور پر 188 کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 134 تھی۔ مبصرین کے مطابق اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت اور قومی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت علی بابا کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو یہ امریکی حکومت کی جانب سے چینی کمپنیوں پر عائد پابندیوں اور بلیک لسٹنگ کے طریقہ کار کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
