تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید خود کفالت حاصل کرنا ہوگی۔
العربیہ کے مطابق غوش عتصیون میں ریزرو فوجی افسران کے ایک تربیتی کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم ان کے بقول خطے میں جاری تنازع ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت پر فخر ہے اور وہ اس تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملک کو اپنے دفاعی نظام میں مکمل خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی فوجی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل ہونا چاہیے اور اسے اسلحے اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بیرونی انحصار کم کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے درمیان قریبی تعلقات برقرار رہیں گے، تاہم موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اسرائیل اپنی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنائے اور ایک آزاد اسلحہ جاتی نظام تشکیل دے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل، لبنان میں جاری جنگ اور خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت خطے میں جاری کشیدگی کو طویل المدتی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے اور مستقبل کی عسکری حکمت عملی میں خود انحصاری کو مرکزی حیثیت دینا چاہتی ہے۔
